14 اشعار

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو

In ka ya apna tamasha dekho

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو

«ان کا یا اپنا تماشا دیکھو» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

ان کا یا اپنا تماشا دیکھوجو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو

وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریںکوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو

رنگ ساحل کا نکھر آئے گادو گھڑی جانب دریا دیکھو

تلملا اٹھا گھنا سناٹاپھر کوئی نیند سے چونکا دیکھو

ہم سفر غیر ہوئے جاتے ہیںفاصلہ رہ گیا کتنا دیکھو

برف ہو جاتا ہے صدیوں کا لہوایک ٹھہرا ہوا لمحہ دیکھو

رنگ اڑتے ہیں تبسم کی طرحآئنہ خانوں کا دعویٰ دیکھو

دل کی بگڑی ہوئی صورت ہے یہاںاب کوئی اور خرابہ دیکھو

یا کسی پردے میں گم ہو جاؤیا اٹھا کر کوئی پردا دیکھو

دوستی خون جگر چاہتی ہےکام مشکل ہے تو رستہ دیکھو

سادہ کاغذ کی طرح دل چپ ہےحاصل رنگ تمنا دیکھو

یہی تسکین کی صورت ہے تو پھرچار دن غم کو بھی اپنا دیکھو

غم گساروں کا سہارا کب تکخود پہ بھی کر کے بھروسا دیکھو

اپنی نیت پہ نہ جاؤ باقیؔرخ زمانے کی ہوا کا دیکھو

— باقی صدیقی