13 اشعار

وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا

Woh maqam dil-o-jaan kya hoga

وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا

«وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 41 سیکنڈ ہے۔

وہ مقام دل و جاں کیا ہوگاتو جہاں آخری پردا ہوگا

منزلیں راستہ بن جاتی ہیںڈھونڈنے والوں نے دیکھا ہوگا

سائے میں بیٹھے ہوئے سوچتے ہیںکون اس دھوپ میں چلتا ہوگا

تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیںہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہوگا

ابھی دل پر ہیں جہاں کی نظریںآئنہ اور بھی دھندلا ہوگا

راز سر بستہ ہے محفل تیریجو سمجھ لے گا وہ تنہا ہوگا

اس طرح قطع تعلق نہ کرواس طرح اور بھی چرچا ہوگا

بعد مدت کے چلے دیوانےکیا ترے شہر کا نقشہ ہوگا

سب کا منہ تکتے ہیں یوں ہم جیسےکوئی تو بات سمجھتا ہوگا

پھول یہ سوچ کے کھل اٹھتے ہیںکوئی تو دیدۂ بینا ہوگا

خود سے ہم دور نکل آئے ہیںتیرے ملنے سے بھی اب کیا ہوگا

ہم ترا راستہ تکتے ہوں گےاور تو سامنے بیٹھا ہوگا

خود کو یاد آنے لگے ہم باقیؔپھر کسی بات پہ جھگڑا ہوگا

— باقی صدیقی