13 اشعار

صبح کا بھید ملا کیا ہم کو

Subh ka bhed mila kya hum ko

صبح کا بھید ملا کیا ہم کو

«صبح کا بھید ملا کیا ہم کو» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

صبح کا بھید ملا کیا ہم کولگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو

شوق نظارا کا پردہ اٹھانظر آنے لگی دنیا ہم کو

کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساریاب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھینہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو

تلخئ غم کا مداوا معلومپڑ گیا زہر کا چسکا ہم کو

تیرے غم سے تو سکوں ملتا ہےاپنے شعلوں نے جلایا ہم کو

گھر کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسےآج ہی گھر نظر آیا ہم کو

ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھیتو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو

جلوۂ لالہ و گل ہے دیوارکبھی ملتے سر صحرا ہم کو

لے اڑی دل کو نسیم سحریبوئے گل کر گئی تنہا ہم کو

سیر گلشن نے کیا آوارہلگ گیا روگ صبا کا ہم کو

یاد آئی ہیں برہنہ شاخیںتھام لے اے گل تازہ ہم کو

لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔایک سوکھا ہوا پتا ہم کو

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں