5 اشعار

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے

Junūñ kī raakh se manzil meñ rañg kyā aa.e

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے

«جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئےمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے

وہ گرد اڑائی کسی نے کہ سانس گھٹنے لگیہٹے یہ راہ سے دیوار تو ہوا آئے

کسی مقام تمنا سے جب بھی پلٹے ہیںہمارے سامنے اپنے ہی نقش پا آئے

نمو کے بوجھ سے شاخیں نہ ٹوٹ جائیں کہیںتم آؤ تو کوئی غنچہ کھلے صبا آئے

یہ دل کی پیاس یہ دنیا کے فاصلے باقیؔبہت قریب سے اب تو کوئی صدا آئے

— باقی صدیقی