6 اشعار

دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں

Dil ke liye hayāt kā paiġhām ban ga.īñ

دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں

«دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیںبے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں

کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئےکچھ جرأتیں حیات پر الزام بن گئیں

ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لیے نہ تھیںپھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں

آنے لگا حیات کو انجام کا خیالجب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں

کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیںجب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں

باقیؔ جہاں کرے گا مری مے کشی پہ رشکان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں