9 اشعار

کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا

Kya patā ham ko milā hai apnā

کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا

«کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنااور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا

کان پڑتی نہیں آواز کوئیدل میں وہ شور بپا ہے اپنا

اب تو ہر بات پہ ہوتا ہے گماںواقعہ کوئی سنا ہے اپنا

ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سےدشت تک سایہ گیا ہے اپنا

خود ہی دروازے پہ دستک دی ہےخود ہی در کھول دیا ہے اپنا

دل کی اک شاخ بریدہ کے سواچمن دہر میں کیا ہے اپنا

کوئی آواز کوئی ہنگامہقافلہ رکنے لگا ہے اپنا

اپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہےدل میں جو چور چھپا ہے اپنا

کون تھا مد مقابل باقیؔخود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا

— باقی صدیقی