6 اشعار

ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے

Har taraf bikhre haiñ rangīñ saa.e

ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے

«ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائےراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

زندگی حرف غلط ہی نکلیہم نے معنی تو بہت پہنائے

دامن خواب کہاں تک پھیلےریگ کی موج کہاں تک جائے

تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھےاونچی دیوار کے لمبے سائے

بند کلیوں کی ادا کہتی ہےبات کرنے کے ہیں سو پیرائے

بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔاس طرح جھوم کے بادل آئے

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں