7 اشعار

مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا

Marhala dil kā na tasḳhīr huā

مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا

«مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہواتو کہاں آ کے عناں گیر ہوا

کام دنیا کا ہے تیر اندازیہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا

سنگ بنیادی ہیں ہم اس گھر کاجو کسی طرح نہ تعمیر ہوا

سفر شوق کا حاصل معلومراستہ پاؤں کی زنجیر ہوا

عمر بھر جس کی شکایت کی ہےدل اسی آگ سے اکسیر ہوا

کس سے پوچھیں کہ وہ انداز نظرکب تبسم ہوا کب تیر ہوا

کون اب داد سخن دے باقیؔجس نے دو شعر کہے میرؔ ہوا

— باقی صدیقی