7 اشعار

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

Kehta hai har makeen se makan bolte raho

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

«کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے واصف سیفی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو

ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہیہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو

موج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیستجس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو

اپنا لہو ہی رنگ ہے اپنی تپش ہی بوہو فصل گل کہ دور خزاں بولتے رہو

قدموں پہ بار ہوتے ہیں سنسان راستےلمبا سفر ہے ہم سفراں بولتے رہو

ہے زندگی بھی ٹوٹا ہوا آئنہ تو کیاتم بھی بطرز شیشہ گراں بولتے رہو

باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاںہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں