7 اشعار

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں

Yun bhi hone ka pata dete hain

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں

«یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیںاپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھےاب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں

قافلہ آج کہاں ٹھہرے گاکیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں

بعض اوقات ہوا کے جھونکےلو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں

دل میں جب بات نہیں رہ سکتیکسی پتھر کو سنا دیتے ہیں

ایک دیوار اٹھانے کے لیےایک دیوار گرا دیتے ہیں

سوچتے ہیں سر ساحل باقیؔیہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں

— باقی صدیقی