7 اشعار

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل

Apni dhoop mein bhi kuch jal

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل

«اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جلہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل

لفظوں کے پھولوں پہ نہ جادیکھ سروں پر چلتے ہل

دنیا برف کا تودا ہےجتنا جل سکتا ہے جل

غم کی نہیں آواز کوئیکاغذ کالے کرتا چل

بن کے لکیریں ابھرے ہیںماتھے پر راہوں کے بل

میں نے تیرا ساتھ دیامیرے منہ پر کالک مل

آس کے پھول کھلے باقیؔدل سے گزرا پھر بادل

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں