7 اشعار

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

Tum Kab Thhe Qareeb Itne Main Kab Door Raha Hoon

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

«تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوںچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں

رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گےبرسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں

سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑاسو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں

جائے گا جہاں تو مری آواز سنے گامیں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں

اک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیںتو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں

چھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں

منزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔاس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں