8 اشعار

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات

Baithe rahenge woh to hamesha daba ke baat

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات

«بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے باتہم ہی کریں گے ان سے کسی روز جا کے بات

کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کاکرتا ہوں اس لیے میں بہت بچ بچا کے بات

پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقاتکرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات

اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کواک وہ کہ چل دئے جو ہنسی میں اڑا کے بات

کہتا ہوں دل کی بات گھٹا کر رقیب سےکرتا ہے وہ جو آگے بڑھا کے چڑھا کے بات

وہ جو بنی ہوئی ہے رکاوٹ سی درمیاںملنا ہو اب ہمیں تو ملیں وہ ہٹا کے بات

مطلوب واعظوں کو ہیں شاید ہمارے اشکہنسنے کی بھی وہ کرتے ہیں اکثر رلا کے بات

باصرؔ بیان سادہ کو پایا ہے بے اثرکیجے ذرا سنوار کے قدرے بنا کے بات

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں