7 اشعار

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف

Karna hai gar mujhe shikar la koi jaal mukhtalif

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف

«کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلفشاطر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف

تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئےکر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف

لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حبابپیش نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف

جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں انہوں نے پستیاںہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہ زوال مختلف

تو نے کہی سنی سنائی مجھ سے سنی سنائی سنچاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف

میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاںمریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف

ایسی چلی دم سحر شام تلک کیا نہالباد صبا سے تھی بہت موج خیال مختلف

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں