6 اشعار

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

Baadal hai aur phool khile hain sabhi taraf

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

«بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے فائیٹر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرفکہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف

تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترےاچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف

جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہابس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف

اے دل یہ دھڑکنیں تری معمول کی نہیںلگتا ہے آ رہا ہے وہ فتنہ اسی طرف

خوش تھا کہ چار نیکیاں ہیں جمع اس کے پاسنکلے گناہ بیسیوں الٹا مری طرف

باصرؔ عدو سے ہم تو یونہی بد گماں رہےتھا ان کا التفات کسی اور ہی طرف

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں