7 اشعار

دور سایا سا ہے کیا پھولوں میں

Duur saya sa hai kya phoolon mein

دور سایا سا ہے کیا پھولوں میں

«دور سایا سا ہے کیا پھولوں میں» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے عبدالقدیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

دور سایا سا ہے کیا پھولوں میںچھپتی پھرتی ہے صبا پھولوں میں

اتنی خوشبو تھی کہ سر دکھنے لگامجھ سے بیٹھا نہ گیا پھولوں میں

چاند بھی آ گیا شاخوں کے قریبیہ نیا پھول کھلا پھولوں میں

چاند میرا ہے ستاروں سے الگپھول میرا ہے جدا پھولوں میں

چاندنی چھوڑ گئی تھی خوشبودھوپ نے رنگ بھرا پھولوں میں

تتلیاں قمریاں سب اڑ بھی گئیںمیں تو سویا ہی رہا پھولوں میں

رک گیا ہاتھ ترا کیوں باصرؔکوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں