5 اشعار

ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے

Hum kamyab ho ke bhi nakaam rah gaye

ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے

«ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئےاظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے

آزاد ہو کے جوں ہی کھلے میرے بال و پرمجھ پر کھلا کہ پاؤں تہ دام رہ گئے

میں دے سکا نہ ان کو کسی تجربے کی آنچافسوس کچھ خیال مرے خام رہ گئے

کرتی رہی زباں مری بے دست و پا مجھےباتوں میں عمر بیت گئی کام رہ گئے

میں راہ دیکھتا رہا یاروں کی صبح تکباصرؔ بھرے بھرائے مرے جام رہ گئے

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں