14 اشعار

کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا

Kahan siyasat-e-aghyar ne halak kiya

کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا

«کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیاہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا

کسی کی موت کا باعث تھی خانہ ویرانیکسی کو رونق گلزار نے ہلاک کیا

کسی کے واسطے پھولوں کی سیج موجب مرگکسی کو جادۂ‌ پر خار نے ہلاک کیا

کسی کو شعلۂ خورشید نے جلا ڈالاکسی کو سایۂ اشجار نے ہلاک کیا

سواد شام کسی کے لئے پیام اجلکسی کو صبح کے آثار نے ہلاک کیا

کسی کی جان گئی دیکھ کر ترا جلوہکسی کو حسرت دیدار نے ہلاک کیا

کوئی شکار ہوا اپنی ہچکچاہٹ کاکسی کو جرأت اظہار نے ہلاک کیا

کسی کا تختہ بچھایا نصیب خفتہ نےکسی کو طالع بیدار نے ہلاک کیا

وہی ہلاکو کہ جس نے کیے ہزاروں ہلاکاسے بھی وقت کی یلغار نے ہلاک کیا

کسی کو مار گیا اس کا کم سخن ہوناکسی کو کثرت اشعار نے ہلاک کیا

وہی خسارہ ہے سب کی طرح ہمیں درپیشہمیں بھی گرمئ بازار نے ہلاک کیا

کبھی تباہ ہوئے مشورہ نہ ملنے سےکبھی نوشتۂ دیوار نے ہلاک کیا

ملی تھی جس کے لبوں سے نئی حیات ہمیںاسی کی شوخئ گفتار نے ہلاک کیا

خدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکیہمیں بلندیٔ معیار نے ہلاک کیا

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں