13 اشعار

کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب

Karte na hum jo ahl-e watan apna ghar kharab

کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب

«کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خرابہوتے نہ یوں ہمارے جواں در بدر خراب

اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سےاچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب

اک بار جو اتر گیا پٹری سے دوستودیکھا یہی کہ پھر وہ ہوا عمر بھر خراب

منزل تو اک طرف رہی اتنا ضرور ہےاک دوسرے کا ہم نے کیا ہے سفر خراب

ہوتی نہیں وہ پوری طرح پھر کبھی بھی ٹھیکہو جائے ایک بار کوئی چیز گر خراب

اے دل مجھے پتا ہے کہ لایا ہے تو کہاںچل خود بھی اب خراب ہو مجھ کو بھی کر خراب

اس کاروبار عشق میں ایسی ہے کیا کششپہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب

اک دن بھی آشیاں میں نہ گزرا سکون سےکرتے رہے ہیں مجھ کو مرے بال و پر خراب

رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ باتکرتی ہے آرزوئے کمال ہنر خراب

اس تیرہ خاکداں کے لیے کیا بلا سببصدیوں سے ہو رہے ہیں یہ شمس و قمر خراب

لگتا ہے ان کو زنگ کسی اور رنگ کاکس نے کہا کہ ہوتے نہیں سیم و زر خراب

اک قدرداں ملا تو یہ سوچا کہ آج تکہوتے رہے کہاں مرے لعل و گہر خراب

خاموش اور اداس ہو باصرؔ جو صبح سےآئی ہے آج پھر کوئی گھر سے خبر خراب

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں