9 اشعار

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں

Kitni hi be-zarar sahi teri kharabiyan

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں

«کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاںباصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں

حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مریہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں

تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی دادمجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں

جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خرابسارے جہاں کی اس میں ملیں گی خرابیاں

سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخابیارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں

آدم خطا کا پتلا ہے گر مان لیں یہ باتنکلیں گی اس خرابی سے کتنی خرابیاں

ان ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہمجن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں

بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیججڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں

باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیںکچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں