5 اشعار

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

Dil laga lete hain ahl-e-dil watan koi bhi ho

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

«دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہوپھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگرپھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو

ہے وہی لا حاصلی دست ہنر کی منتظرآخرش سر پھوڑتا ہے کوہ کن کوئی بھی ہو

شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصرؔ کا نشاںڈھونڈتے ہیں ہم اسے بزم سخن کوئی بھی ہو

عادتیں اور حاجتیں باصرؔ بدلتی ہیں کہاںرقص بن رہتا نہیں طاؤس بن کوئی بھی ہو

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں