6 اشعار

موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا

Moujib-e-rang-e-chaman khoon-e-shaheedaan nikla

موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا

«موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلاموت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا

ٹھوکریں کھائی ہیں اتنی کہ اب اپنے دل سےشوق آوارگیٔ دشت و بیاباں نکلا

ہم بہت خوش تھے کہ جاگ اٹھی ہے اپنی قسمتآنے والا کسی ہمسائے کا مہماں نکلا

ہے عجب بات کہ جس رستے پہ ہم چل نکلےگھوم پھر کر وہ سر کوچۂ جاناں نکلا

بے حسی نے جو کبھی فرصت غم دی ہم کوایک سیلاب نہفتہ تہ مژگاں نکلا

چارہ گر خطرۂ جاں کہتے تھے جس کو باصرؔوہی غم باعث آرام رگ جاں نکلا

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں