7 اشعار

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے

Dam-e-subh aandhiyon ne jinhein rakh diya masal ke

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے

«دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کےوہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑاکوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے

وہی رسم کم نگاہی وہی رات کی سیاہیمرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے

نئے خواب میری منزل تہہ آب میرا ساحلتمہیں کیا ملے گا یارو مرے ساتھ ساتھ چل کے

سر شام آج کوئی مرے دل سے کہہ رہا ہےکوئی چاند بھی تو نکلے کوئی جام بھی تو چھلکے

یہ جو گھر لٹا لٹا ہے یہ جو دل بجھا بجھا ہےاسی دل میں رہ گئے ہیں کئی آفتاب ڈھل کے

یہ مشاہدہ ہے میرا رہ زندگی میں باصرؔوہی منہ کے بل گرا ہے جو چلا سنبھل سنبھل کے

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں