6 اشعار

ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میں

Aisa nahin samajhna kahin ja raha hoon main

ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میں

«ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میںتم میرے پاس بیٹھو ابھی آ رہا ہوں میں

اے شخص تھوڑی دیر مجھے حوصلہ نہ دےکتنے دنوں کے بعد تو گھبرا رہا ہوں میں

اب شرم آ رہی ہے مجھے چیختے ہوئےکچھ روز ایسی باتوں پہ ہنستا رہا ہوں میں

مسجد خدا کا گھر ہے یہی بات سوچ کرمسجد کے ہر ستون سے ٹکرا رہا ہوں میں

حل ہو تو جائے گا یہ جدائی کا مسئلہفی الحال اپنے آپ کو سمجھا رہا ہوں میں

دانش گزشتہ سال کی تصویر دیکھ کرحیران ہو رہا ہوں کہ ایسا رہا ہوں میں

— دانش نقوی