6 اشعار

پاکیزہ درگاہوں جیسی صاف اور سچی لگتی ہیں

Pakiza dargahon jaisi saaf aur sacchi lagti hain

پاکیزہ درگاہوں جیسی صاف اور سچی لگتی ہیں

«پاکیزہ درگاہوں جیسی صاف اور سچی لگتی ہیں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

پاکیزہ درگاہوں جیسی صاف اور سچی لگتی ہیںاس کی آنکھیں ہر اک شخص کو اپنی اپنی لگتی ہیں

شام ڈھلے ہی ان گلیوں میں سبزہ اگنے لگتا ہےاس کے شہر کی سب دیواریں رات کو کچی لگتی ہیں

قدرت کا تو کام نہیں یہ کھڑکی کافی اندر ہےشیشے سے بارش کی بوندیں سوچی سمجھی لگتی ہیں

وہ مجھ کو برباد بھی کردے لیکن میرے پاس رہےکچھ چیزیں نقصان بھی دیں تو پھر بھی اچھی لگتی ہیں

پہلے خوف بہت آتا تھا وحشت اور ویرانی سےخیر سے اب تو ایسی باتیں چھوٹی موٹی لگتی ہیں

میں بھی تلخ سمجھتا تھا پر چکھنے سے احساس ہواکتنے میٹھے لب ہیں جن کی باتیں کڑوی لگتی ہیں

— دانش نقوی