6 اشعار

اشک بے ساختہ پتھر سے نکل آتے ہیں

Ashk be-sakhta patthar se nikal aate hain

اشک بے ساختہ پتھر سے نکل آتے ہیں

«اشک بے ساختہ پتھر سے نکل آتے ہیں» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

اشک بے ساختہ پتھر سے نکل آتے ہیںیہ وہ چشمے ہیں جو ٹھوکر سے نکل آتے ہیں

غیر موجود کا دکھ ہونے ہی لگتا ہے کہ پھرکام اشیاء میسر سے نکل آتے ہیں

واقعہ ہوتا ہے سب اسکی طرف دوڑتے ہیںہم بھی گھبرائے ہوئے گھر سے نکل آتے ہیں

خود کلامی کی بھی عادت نہیں میری پھر بھیلوگ کیسے میرے اندر سے نکل آتے ہیں

معذرت میں اگر اڑ جاؤں تیرے ہاتھوں سےبعض اوقات میرے پر سے نکل آتے ہیں

نہر میں ڈوبنے والوں کو بتائے کوئیاس کے تیراک سمندر سے نکل آتے ہیں

— دانش نقوی