6 اشعار

ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہے

Dher samaan nikal aaya hai kam rehta hai

ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہے

«ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہےخواب تو کھینچ لیے، آنکھ میں نم رہتا ہے

ریت مت دیکھ، جو سنتا ہے تو آواز لگاایسی آندھی میں بھلا نقش قدم رہتا ہے

دل کی وحشت کو مکمل تو قرار آ جائےاک ذرا دیر تو رک تھوڑا سا غم رہتا ہے

میرا اک ایسے قبیلے سے تعلق ہے جہاںہاتھ بے شک نہ رہے اس میں علم رہتا ہے

دور سے لوگ وہی کہہ کے بلاتے ہیں مجھےایک چہرہ جو میرے چہرے میں ضم رہتا ہے

سال بھر کرتے ہیں پت جھڑ کی دعائیں دانشتب کہیں سوکھے درختوں کا بھرم رہتا ہے

— دانش نقوی