5 اشعار

گناہ بعد میں جا کر معاف ہوتا تھا

Gunah baad mein ja kar muaf hota tha

گناہ بعد میں جا کر معاف ہوتا تھا

«گناہ بعد میں جا کر معاف ہوتا تھا» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

گناہ بعد میں جا کر معاف ہوتا تھامیں اپنے آپ کے فورا خلاف ہوتا تھا

گئے دنوں میں محبت بہت مقدس تھیکہیں پہ ہوتی تو اس پر غلاف ہوتا تھا

مجھے یقین ہے سب دیوتاوں سے پہلےتمہارے جیسے بدن کا طواف ہوتا تھا

ہمارے آنسو ابھی جا کے کچھ کثیف ہوئےیہ پانی پہلے بہت صاف صاف ہوتا تھا

اب اپنی بات کو چپ چاپ مان لیتا ہوںوگرنہ پہلے بڑا اختلاف ہوتا تھا

— دانش نقوی