6 اشعار

کوئی تصور ہے اور نہ تصویر٬ صرف رنگوں میں بٹ رہی ہے

Koi tasawwur hai aur na tasveer, sirf rangon mein bat rahi hai

کوئی تصور ہے اور نہ تصویر٬ صرف رنگوں میں بٹ رہی ہے

«کوئی تصور ہے اور نہ تصویر٬ صرف رنگوں میں بٹ رہی ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

کوئی تصور ہے اور نہ تصویر٬ صرف رنگوں میں بٹ رہی ہےاس آئینے کے بدن سے ٹکرا کے روشنی ہی پلٹ رہی ہے

میرے قبیلے کے تاجروں کی نئے قبیلوں سے دوستی تھیپھر ایک دن یہ پتہ چلا کہ ہماری تعداد گھٹ رہی ہے

کسی کے جانے سے ہر کسی کو ہمیشہ نقصان ہی ہوا ہےہمیں بس اک فائدہ ہوا ہے کہ عمر اچھے سے "کٹ" رہی ہے

تمہیں تو بالکل پتہ نہیں ہے نہ فاصلوں کا نہ قربتوں کایہ بیل اپنے قریب والے شجر سے کیسے لپٹ رہی ہے

کسے بتائیں کہ اس تبرک کی ہم کو کتنی ضرورتیں ہیںہمیں سماعت کا مسئلہ ہے اور اسکی آواز بٹ رہی ہے

وہ جاتے جاتے کسی بھی کھڑکی سے جھانک لیتا تو کچھ نہ ہوتااب اس مکاں کے کواڑ کھولو وگرنہ دیوار پھٹ رہی ہے

— دانش نقوی