5 اشعار

جتنا اونچا بولے اس سے اتنی خوشبو آتی ہے

Jitna ooncha bole, us se itni khushboo aati hai

جتنا اونچا بولے اس سے اتنی خوشبو آتی ہے

«جتنا اونچا بولے اس سے اتنی خوشبو آتی ہے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

جتنا اونچا بولے اس سے اتنی خوشبو آتی ہےوہ غصے میں بات کرے تو تیکھی خوشبو آتی ہے

آسانی سے کب آتا ہے وہ سانسوں کے گھیرے میںدوسری بار ملو تو اس سے پہلی خوشبو آتی ہے

اس کے آنے سے کمرے میں دو چیزیں آجاتی ہیںچین آتا ہے ساتھ میں ہلکی ہلکی خوشبو آتی ہے

ایسا زہر بھرا ہے اس سے جڑی ہوئی ہر اک شئے میںاس کے باغیچے سے گزرو نیلی خوشبو آتی ہے

چاہے اپنوں پر پھینکو یا پھر اپنوں کی قبروں پرپھول تو دانش پھول ہیں ان سے پھر بھی خوشبو آتی ہے

— دانش نقوی