5 اشعار

یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہا

Yeh jo koi kaam bhi mustaqil nahin ho raha

یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہا

«یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہا» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہانہیں ہو رہا تو بوجہ دل نہیں ہو رہا

میری توڑ پھوڑ سے لگ رہا ہے مجھے بھی ابکہ میں احتیاط سے منتقل نہیں ہو رہا

تیرے سخت لہجوں کی زد میں آکے بگڑ گیامیرا اب مزاج ہی معتدل نہیں ہو رہا

میری چپ سے میرے مخالفین بھی تنگ ہیںمیں کسی بھی بات پہ مشتعل نہیں ہو رہا

نظر آ رہا ہے کہ دشمنوں کا دیا نہیںتیرا زخم زخموں سے متصل نہیں ہو رہا

— دانش نقوی