6 اشعار

کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی

Kabhi kabhi toh na hogi kabhi hua kare gi

کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی

«کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گیضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گی

رہے گی ایسے ہی رونق تیرے محلے کیگزرنے والے نہ ہوں گے گلی ہوا کرے گی

جو ہم نہ ہونگے تو پھر کون تم سے مانگے گاتمہیں ہماری ضرورت سخی! ہوا کرے گی

بچھڑ کے مجھ سے میری جان خوش رہا کرناتو خوش رہا تو مجھے بھی خوشی ہوا کرے گی

ہمارا خاص تعلق تو خیر تھا ہی نہیںاور اب تو بات بھی بس سر سری ہوا کرے گی

تم اور میں تو یقینا وہاں جنم لیں گےکہیں خلا میں اگر زندگی ہوا کرے گی

— دانش نقوی