5 اشعار

لبوں کو دیکھ کے لگتا نہیں، مگر چپ ھے

Labon ko dekh ke lagta nahin, magar chup hai

لبوں کو دیکھ کے لگتا نہیں، مگر چپ ھے

«لبوں کو دیکھ کے لگتا نہیں، مگر چپ ھے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

لبوں کو دیکھ کے لگتا نہیں، مگر چپ ھےاسی لیے تو میری سب سے معتبر چپ ھے

کوئی ہنسا تو کسی نے مجھے دلاسہ دیاتو پہلا شخص ھے جو مجھ کو دیکھ کر چپ ھے

یہ اجتماعی خموشی بہت بری شے ھےمیں چپ ہوں اور میرے ساتھ سارا گھر چپ ھے

سلام اس لیے کرتا ہوں ہر مسافر کوسفر طویل ھے اور میرا ہمسفر چپ ھے

یہ کس طرح کی ملاقات ھے میری تجھ سےذرا ذرا سا تکلم ھے بیشتر چپ ھے

— دانش نقوی