6 اشعار

ندیاں، پیڑ، پرندے، جنگل، صحرا، سبزہ زاروں کی

Nadiyan, ped, parindey, jangal, sehra, sabza zaaron ki

ندیاں، پیڑ، پرندے، جنگل، صحرا، سبزہ زاروں کی

«ندیاں، پیڑ، پرندے، جنگل، صحرا، سبزہ زاروں کی» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ندیاں، پیڑ، پرندے، جنگل، صحرا، سبزہ زاروں کیتیرے صدقے خیر ہو تیرے سارے رشتہ داروں کی

ہولے ہولے لاد چلیں گے اپنے اپنے سفروں کوعارضی رونق دیکھ رہے ہو، بستی ہے بنجاروں کی

وحشت، گھر کی ویرانی،آزار، گھٹن اور خاموشیایک سے جان چھڑا لوں بس پھر خیر ہے باقی چاروں کی

سارے شہر سے پہلے ان پر آفت نازل ہوتی ہےکون سمجھ سکتا ہے مشکل ان اونچے میناروں کی

دیکھ زمین کا دکھ ہی اب تو جان پہ بھاری پڑتا ہےبچپن میں اچھی لگتی تھیں باتیں چاند ستاروں

کی

— دانش نقوی