6 اشعار

یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے

Yun bhi aankhon mein kisi khwab ka resha na bane

یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے

«یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنےکوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنے

ایسی تصویر بنا روتے ہوئے خوش بھی لگوںغم کی ترسیل تو ہو غم کا تماشہ نہ بنے

مستحق ہوں تو کسی اور سے تصدیق بھی کرمجھ کو مت دینا اگر میرا دلاسہ نہ بنے

جتنا پختہ بھی ہو دل جسم سے باہر رکھناتاکہ ٹوٹے بھی تو پھر سینے میں ملبہ نہ بنے

بس اسی شرط پہ کوئی بھی رہے آنکھوں میںنیند کی سمت کسی خواب کا رستہ نہ بنے

جو بھی رشتہ ہو فقط میرا ہو تجھ سے دانشؔاور تو اور ترا مجھ سے بھی رشتہ نہ بنے

— دانش نقوی