6 اشعار

سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے

Sab log kahani mein hi masroof rahe the

سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے

«سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھےدراصل اداکار حقیقت میں مرے تھے

جاتے ہوئے کمرے کی کسی چیز کو چھو دےمیں یاد کروں گا کہ ترے ہاتھ لگے تھے

آنکھیں بھی تری فتح نہ کر پائے ابھی تککس لمحۂ بیکار میں ہم لوگ بنے تھے

ہم یوں ہی کسی بات کو دل پر نہیں لیتےنقصان زیادہ تھے سو گھبرائے ہوئے تھے

اتنا ہی بتا سکتا ہوں احباب کے بارےکچھ تیر مری پشت کی جانب سے چلے تھے

میں نے تو کہا تھا کہ نکل جاتے ہیں دونوںاس وقت کہانی میں سبھی لوگ نئے تھے

— دانش نقوی