5 اشعار

تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟

Tumhari jaanib bhi kya yunhi badhawaas aati hai tum sunao?

تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟

«تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟یہاں کہیں سے ہوا بھی آئے اداس آتی ہے تم سناو

تمہیں بتایا تھا پیڑ پودوں کا رنگ تبدیل ہو رہا ہےاور اب درختوں کے خشک پتوں سے باس آتی ہے تم سناو

میں کیا سناوں کہ میرے جیسی سدا کی بنجر زمین پر بھیتمہارے جیسوں کے بول پڑنے سے گھاس آتی ہے تم سناو

میری سماعت کے حق میں اب بس یہ دو ہی الفاظ رہ گئے ہیںوہ اتنا کہتی ہے جب کبھی میرے پاس آتی ہے "تم سناو"

میرا تو اس بار پہلے والے سے ڈھیر نقصان ہوگیا ہےتمہیں تو ہر بار رت جدائی کی راس آتی ہے تم سناو

— دانش نقوی