5 اشعار

وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا

Woh jaane kis baat pe mere seene lag kar roya tha

وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا

«وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھابے موسم سرسوں پھولی تھی کھیتوں کا منہ پیلا تھا

سمہے سہمے دن تھے کوئی خوف تھا میرے سینے میںپچھلے سال اسی موسم میں تیرا ماتھا چوما تھا

پیاس کی حرمت بھول رہے ہو لیکن اتنا یاد رہےپہلے میرے لب سوکھے تھے بعد میں دریا سوکھا تھا

لگتا ہے کہ میرے بعد بہت سے لوگ یہاں آئےپچھلی بار میں جب آیا تھا رستہ اونچا نیچا تھا

تم نے یونہی جلدی کی ہے اس سے رشتہ توڑ لیاویسے چاہے جیسا ہوگا، دانش بندہ اچھا تھا

— دانش نقوی