3 اشعار

یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے

Yun bhi aankhon mein kisi khwaab ka resha na bane

یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے

«یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے» دانش نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 24 سیکنڈ ہے۔

یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنےکوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنے

ایسی تصویر بنا روتے ہوئے خوش بھی لگوںغم کی ترسیل تو ہو غم کا تماشہ نہ بنے

بس اسی شرط پہ کوئی بھی رہے آنکھوں میںنیند کی سمت کسی خواب کا رستہ نہ بنے

— دانش نقوی