6 اشعار

روتی ہوئی آنکھوں کا وہ منظر نہیں دیکھا

Roti hui aankhon ka woh manzar nahin dekha

روتی ہوئی آنکھوں کا وہ منظر نہیں دیکھا

«روتی ہوئی آنکھوں کا وہ منظر نہیں دیکھا» ڈاکٹر فخر عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

روتی ہوئی آنکھوں کا وہ منظر نہیں دیکھاچھوڑ آئے تو پھر ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا

کچھ وہ بھی سمجھنے کا تکلف نہیں کرتےکچھ ہم نے زباں سے کبھی کہہ کر نہیں دیکھا

شاید اسی کم یاب کو کہتے ہیں تبسمہم نے ترے چہرے پہ جو اکثر نہیں دیکھا

ہم حسن بہ انداز حسیں دیکھنے والےسچ بات ہے تجھ سا کوئی پیکر نہیں دیکھا

اس زخم کا ظالم کو تو احساس بہت ہےجس زخم کو ہم نے کبھی گن کر نہیں دیکھا

ہم کو تو سر حشر تھی اک اور کسک بھیجاتے ہوئے ہم نے رخ دلبر نہیں دیکھا

— ڈاکٹر فخر عباس