10 اشعار

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے

Yeh to nahin ke tum se mohabbat nahin mujhe

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے

«یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھےاتنا ضرور ہے کہ شکایت نہیں مجھے

میں ہوں کہ اشتیاق میں سر تا قدم نظروہ ہیں کہ اک نظر کی اجازت نہیں مجھے

آزادئ گناہ کی حسرت کے ساتھ ساتھآزادئ خیال کی جرأت نہیں مجھے

دوبھر ہے گرچہ جور عزیزاں سے زندگیلیکن خدا گواہ شکایت نہیں مجھے

جس کا گریز شرط ہو تقریب دید میںاس ہوش اس نظر کی ضرورت نہیں مجھے

جو کچھ گزر رہی ہے غنیمت ہے ہم نشیںاب زندگی پہ غور کی فرصت نہیں مجھے

میں کیوں کسی کے عہد وفا کا یقیں کروںاتنی شدید غم کی ضرورت نہیں مجھے

سجدے مرے خیال جزا سے ہیں ماورامقصود بندگی سے تجارت نہیں مجھے

میں اور دے سکوں نہ ترے غم کو زندگیایسی تو زندگی سے محبت نہیں مجھے

احسانؔ کون مجھ سے سوا ہے مرا عدواپنے سوا کسی سے شکایت نہیں مجھے

— احسان دانش