12 اشعار

پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں

Purshish-e-gham ka shukriya kya tujhe aagahi nahin

پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں

«پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

پرسش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیںتیرے بغیر زندگی درد ہے زندگی نہیں

دیکھ کے خشک و زرد پھول دل ہے کچھ اس طرح ملولجیسے مری خزاں کے بعد دور بہار ہی نہیں

دور تھا اک گزر چکا نشہ تھا اک اتر چکااب وہ مقام ہے جہاں شکوۂ بے رخی نہیں

عشرت خلد کے لیے زاہد کج نظر جھکےمشرب عشق میں تو یہ جرم ہے بندگی نہیں

تیرے سوا کروں پسند کیا تری کائنات میںدونوں جہاں کی نعمتیں قیمت بندگی نہیں

لاکھ زمانہ ظلم ڈھائے وقت نہ وہ خدا دکھائےجب مجھے ہو یقیں کہ تو حاصل زندگی نہیں

دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مے کدہ گئیفرصت مے کشی تو ہے حسرت مے کشی نہیں

اشک رواں کی آب و تاب کر نہ عوام میں خرابعظمت عشق کو سمجھ گریۂ غم ہنسی نہیں

عرصۂ فرقت و فراق ایسا طویل تو نہ تھابھول رہے ہو تم مجھے میں کوئی اجنبی نہیں

زخم پہ زخم کھا کے جی اپنے لہو کے گھونٹ پیآہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیں

ایک وہ رات تھی کہ جب تھا مرے گھر وہ ماہتابایک یہ رات ہے کہ اب چاند ہے چاندنی نہیں

مژدہ کہ نا مراد عشق تیری غزل کا ہے وہ رنگوہ بھی پکار اٹھے کہ یہ سحر ہے شاعری نہیں

— احسان دانش