15 اشعار

آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ

Aa, kisi shaam, kisi yaad ki dehleez pe aa

آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ

«آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آعمر گزری ہے تجھے دیکھے ہوئے

یاد ہے ، ہم تجھے دل مانتے تھےاپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدّی بچّہ

تیری ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثرنت نئے خواب کے بازار میں لے آتا تھا

تیرے ہر نخرے کی فرمائش پرایک جیون کی تمناؤں کی بینائی سے

ہم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھےیاد ہے ہم تجھے سُکھ مانتے تھے

رات ہنس پڑتی تھی بے ساختہ درشن سے تیرےدن تیری دوری سے رو پڑتا تھا

یاد ہے ہم تجھے جان کہتے تھےتیری خاموشی سے مر جاتے تھے

تیری آواز سے جی اُٹھتے تھےیاد ہے ہم تجھے ملنے کے لیئے

وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھےیاد ہے ہم تجھے بھگوان سمجھتے تھے

مگر کفر سے ڈر جاتے تھےتیرے چِھن جانے کا ڈر

ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیںآ کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ

تیرے بھولے ہوئے رستوں پہلیئے پھرتا ہے ایمان ہمیں

اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیںیاد ہے ؟؟؟؟؟؟؟

ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھےآ کسی روز ۔۔۔۔۔۔۔

کسی یاد کی دہلیز پہ آ

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں