5 اشعار

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے

Badal gaye mere mausam, to yaar ab aaye

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے

«بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئےغموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے

یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکنمیں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے

وہ دھوپ دھوپ میں ہی ہو گیا بسر، چپ چاپشجر شجر پہ مرے برگ و بار اب آئے

وہ جن پہ دھوکہ سا جھیلا تھا، ہم نے منزل کاوہ قافلے تو سرِ راہ گزار، اب آئے

نہ ڈالیوں پہ کوئی پھول ہے، نہ ہونٹوں پرمزہ تو جب ہے کہ بادِ بہار، اب آئے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں