ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
کلام: فرحت عباس شاہ
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیںجس طرح لوگ سکوں ڈھونڈتے ہیں
ہم گو منصور نہیں ہیں لیکناس کا انداز جنوں ڈھونڈتے ہیں
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیںجس طرح لوگ سکوں ڈھونڈتے ہیں
ہم گو منصور نہیں ہیں لیکناس کا انداز جنوں ڈھونڈتے ہیں
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئےغموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے
یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکنمیں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے
بھول کر ذات تم کو یاد کیابات بے بات تم کو یاد کیا
نیند ناراض ہو گئی ہم سےہم نے جس رات تم کو یاد کیا