6 اشعار

دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں

Dekh lena ke kisi dukh ki kahani to nahin

دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں

«دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے فرحت شاہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیںیہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں

دِکھ رہی ہے جو مُجھے صاف تیری آنکھوں میںتُو نے یہ بات کہیں مُجھ سے چُھپانی تو نہیں

جانتا ہوں کہ سرابوں میں گِھرا ہوں یارودوڑ پڑتا ہوں مگر پِھر بھی کہ پانی تو نہیں

جس طرح شہر سے نکلا ہوں میں بیمار ترایہ اُجڑنا ہے، کوئی نقل مکانی تو نہیں

اُس نے چاہا ہے مُجھے اپنے خُدا سے بڑھ کرمیں نے یہ بات زمانے کو بتانی تو نہیں

یہ جو ہر موڑ پہ آ ملتی ہے مُجھ سے فرحتؔبدنصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں