اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
کلام: فرحت عباس شاہ
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہےسبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتریتو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہےسبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتریتو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے
دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیںیہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں
دِکھ رہی ہے جو مُجھے صاف تیری آنکھوں میںتُو نے یہ بات کہیں مُجھ سے چُھپانی تو نہیں