6 اشعار

گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے

Geet likhe bhi to aise ke sunaaye na gaye

گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے

«گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئےزخم لفظوں میں یوں اترے کہ دکھائے نہ گئے

تیرے کچھ خواب جنازے ہیں میری آنکھوں میںوہ جنازے جو کبھی گھر سے اُٹھائے نہ گئے

ہم نے قسمیں بھی اٹھا دیکھیں مگر بھول گئےہم نے وعدے بھی کیے اور نبھائے نہ گئے

شہر میں فتح کی رونق تھی کسی دشمن پرہم سے لیکن در و دیوار سجائے نہ گئے

کیا بس اتنی ہی محبت تھی کہ بولے نہ چلےکیا بس اتنا ہی تعلق تھا کہ آئے نہ گئے

آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری میںایک دو وعدے، جو دونوں سے نبھائے نہ گئ

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں