6 اشعار

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے

Hijr ki raat chhod jaati hai

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے

«ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے حسن شبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہےنت نئی بات چھوڑ جاتی ہے

عشق چلتا ہے تا ابد لیکنزندگی ساتھ چھوڑ جاتی ہے

دل بیابانی ساتھ رکھتا ہےآنکھ برسات چھوڑ جاتی ہے

چاہ کی اک خصوصیت ہے کہ یہمستقل مات چھوڑ جاتی ہے

مرحلے اس طرح کے بھی ہیں کہ جبذات کو ذات چھوڑ جاتی ہے

ہجر کا کوئی نا کوئی پہلوہر ملاقات چھوڑ جاتی ہے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں