گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے
کلام: فرحت عباس شاہ
گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئےزخم لفظوں میں یوں اترے کہ دکھائے نہ گئے
تیرے کچھ خواب جنازے ہیں میری آنکھوں میںوہ جنازے جو کبھی گھر سے اُٹھائے نہ گئے
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئےزخم لفظوں میں یوں اترے کہ دکھائے نہ گئے
تیرے کچھ خواب جنازے ہیں میری آنکھوں میںوہ جنازے جو کبھی گھر سے اُٹھائے نہ گئے
گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیاجا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا
ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دیایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا